MOJ E SUKHAN

ادھر دیکھ لینا ادھر دیکھ لینا

غزل

ادھر دیکھ لینا ادھر دیکھ لینا
پھر ان کی طرف اک نظر دیکھ لینا

وہ میرا نہ کہنے میں کہہ جانا سب کچھ
وہ ان کا اچانک ادھر دیکھ لینا

عبث میری جانب سے تو بد گماں ہے
نہیں مدعا کچھ مگر دیکھ لینا

مرے غم کدہ میں وہ آئیں گے اک دن
جھلک اٹھیں گے بام و در دیکھ لینا

اثرؔ عرض حال ان سے بے سوچے سمجھے
کہا تھا کہ پہلے نذر دیکھ لینا

اثر لکھنؤئ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم