جواب سارے سوالیہ کرکے آ رہا ہوں
میں زندگی سے مکالمہ کر کے آ رہا ہوں
پرند مجھ پر اترنے والے ہیں دھیرے دھیرے
میں سبز پیڑوں سے رابطہ کر کے آ رہا ہوں
تری حویلی میں آنا آسان تو نہیں تھا
چٹان حائل تھی راستہ کر کے آ رہا ہوں
تمام دشمن تو مجھ کو تسلیم کر چکے ہیں
میں دوستوں سے مقابلہ کر کے آ رہا ہوں
میں ایسے پہنچا نہیں ہوں مظہر ابد سے آگے
میں لامکاں سے مصافحہ کر کے آ رہا ہوں
محمد مظہر نیازی