MOJ E SUKHAN

اک وہی آج تک مرا نہ ہوا

اک وہی آج تک مرا نہ ہوا
ورنہ کہنے کو مجھ سے کیا نہ ہوا

جا سکی ذہن سے نہ یاد کبھی
اور دل سے بھی وہ جدا نہ ہوا

ہم نے تو دل سے چاہا پر اس سے
کیوں محبت کا حق ادا نہ ہوا

جانتی تھی وہ بے وفا ہے مگر
پھر بھی اس سے کوئی گلہ نہ ہوا

سچ تھیں باتیں اسی لئے شاید
اس کی باتوں سے دل برا نہ ہوا

کونسا درد خود کو دیں گے ہم
درد دل میں بھی گر مزا نہ ہوا

زخم سب سہہ لیے زمانے کے
کچھ زمانے سے پر گلہ نہ ہوا

اس طرح بس گیا مرے دل سے
وہ صبیحہ کبھی جدا نہ ہوا

صبیحہ خان صبیحہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم