بات کیا دلکش انوکھی ہو گئی
ہم نہ سوئے رات تھک کر سو گئی
مفت میں بدنام ہو کے رہ گئے
جس کی ہونی تھی اسی کی ہو گئی
اشک سے دامن ہوا جب تر بتر
داغ ِدل ہنس کے ندامت دھو گئی
تان کے چادر زمیں پر لیٹ جا
جس کو جانا تھا وہ گھر میں سو گئی
سو جتن کر کے جسے حاصل کیا
شے تھی جو انمول پھر سے کھو گئی
ہجر میں چاہت کو دیکھا اشکبار
بیج چاہت کی سنہری بو گئی
خواب شب کا تو سمجھ کے بھول جا
جو پری تھی دور اب تو وہ گئی
جو بلا آئی تھی گھر میں ٹل گئی
تیری الجھن سر سے تیرے لو گئی
شعر ِ تابش کس قدر انمول ہے
سن کے بیگم نیند گہری سو گئی
تابش رامپوری