برا برے کے علاوہ بھلا بھی ہوتا ہے
ہر آدمی میں کوئی دوسرا بھی ہوتا ہے
۔
تم اپنے دیس کی سوغات ہو ہمارے لیے
کہ حسن تحفۂ آب و ہوا بھی ہوتا ہے
۔
مقابلے پہ کمر بستہ ہم نہیں ہوتے
اگر شکست کا خطرہ ذرا بھی ہوتا ہے
۔
تمہارے شہر میں ہے جی لگا ہوا ورنہ
مسافروں کے لیے راستہ بھی ہوتا ہے
۔
وہ چہرہ ایک تصور بھی ہے حقیقت بھی
دریچہ بند بھی ہوتا ہے وا بھی ہوتا ہے
۔
ہم اے شعورؔ اکیلے کبھی نہیں ہوتے
ہمارے ساتھ ہمارا خدا بھی ہوتا ہے
انور شعور