MOJ E SUKHAN

برا برے کے علاوہ بھلا بھی ہوتا ہے

برا برے کے علاوہ بھلا بھی ہوتا ہے

ہر آدمی میں کوئی دوسرا بھی ہوتا ہے

۔

تم اپنے دیس کی سوغات ہو ہمارے لیے

کہ حسن تحفۂ آب و ہوا بھی ہوتا ہے

۔

مقابلے پہ کمر بستہ ہم نہیں ہوتے

اگر شکست کا خطرہ ذرا بھی ہوتا ہے

۔

تمہارے شہر میں ہے جی لگا ہوا ورنہ

مسافروں کے لیے راستہ بھی ہوتا ہے

۔

وہ چہرہ ایک تصور بھی ہے حقیقت بھی

دریچہ بند بھی ہوتا ہے وا بھی ہوتا ہے

۔

ہم اے شعورؔ اکیلے کبھی نہیں ہوتے

ہمارے ساتھ ہمارا خدا بھی ہوتا ہے

انور شعور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم