MOJ E SUKHAN

تجھے ڈھونڈھتی ہیں نظریں مجھے اک جھلک دکھا جا

تجھے ڈھونڈھتی ہیں نظریں مجھے اک جھلک دکھا جا
مری زندگی کے مالک مری زندگی میں آ جا

نہ غرض صنم کدے سے نہ حرم سے کوئی مطلب
مجھے واسطہ ہے تجھ سے مرے دل میں تو سما جا

تو بچھڑ گیا ہے جب سے مری نیند اڑ گئی ہے
تری راہ تک رہا ہوں مرے چاند اب تو آ جا

مجھے درد دے کے اپنا تو کہاں چھپا ہے جا کر
مرا دل چرانے والے مجھے شکل تو دکھا جا

ترا درد بن گیا ہے مری زندگی کا حاصل
مرے دل پہ ہاتھ رکھ دے ذرا حوصلہ بڑھا جا

مجھے آ کے دے سہارا یہ قدم نہ ڈگمگائیں
کہیں میں بھٹک نہ جاؤں مجھے راستہ دکھا جا

مرے نام کی نشانی نہ رہے جہاں میں باقی
مری جان لینے والے مری قبر بھی مٹا جا

ترے حسن پہ فدا ہوں ترے عشق میں فناؔ ہوں
مجھے تیری آرزو ہے مری خلوتوں میں آ جا

فنا بلند شہری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم