غزل
تجھ سے بچھڑ گئی کہ جہاں سے بچھڑ گئی
پر لطف وادیوں کی مسافت کہاں گئی
اب بے تکان کرنے لگے آپ گفتگو
حیرت ہے وہ زبان کی لکنت کہاں گئی
اہل جنوں کے جوش محبّت کو کیا ہوا
جذبات میں وہ پہلے سی شدّت کہاں گئی
چلنے لگا ہے آدمی باطل کی راہ پے
ہادئ دو جہاں کی نصیحت کہاں گئی
آئے ہیں جب سے تیرے قدم وادئ دل میں
تنہائیوں کی دل زدہ وحشت کہاں گئی
اک بے وفا کے دام کے کھاتا ہے کیوں فریب
وہ تیری دلربائی کی عادت کہاں گئی
کیا باغباں ریاضت گلشن سے ڈر گیا
پھولوں سے تازگی و لطافت کہاں گئی
کیا بات ہے کہ چہرہ منوّر نہیں رہا
موسیٰ کے ہاٹھ کی وہ کرامت کہاں گئی
منور جہاں منور