MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تری جستجو میں نکلے تو عجب سراب دیکھے

غزل

تری جستجو میں نکلے تو عجب سراب دیکھے
کبھی شب کو دن کہا ہے کبھی دن میں خواب دیکھے

مرے دل میں اس طرح ہے تری آرزو خراماں
کوئی نازنیں ہو جیسے جو کھلی کتاب دیکھے

جسے میری آرزو ہو جو خراب کو بہ کو ہو
مجھے دیکھنے سے پہلے تجھے بے نقاب دیکھے

جسے کچھ نظر نہ آیا ہو جہاں رنگ و بو میں
وہ کھلا گلاب دیکھے وہ ترا شباب دیکھے

دو جہاں کو لا ڈبوئے وہ ذرا سی آب جو میں
تری چشم سرمگیں کو جو کوئی پر آب دیکھے

یوں ٹھہر ٹھہر کے گزری شب انتظار یارو
کہ سحر کے ہوتے ہوتے کئی ہم نے خواب دیکھے

مجھے دیکھنا ہو جس کو مرے حال پر نہ جائے
مرا ذوق و شوق دیکھے مرا انتخاب دیکھے

جمیل ملک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم