MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تمہی کو جانا تمہی کو سمجھے تمام عالم سے تنگ ہو کر

تمہی کو جانا تمہی کو سمجھے تمام عالم سے تنگ ہو کر

دوئی کا وحدت میں دخل کیسا رہے ہمیشہ اکنگ ہو کر

نہاں تھا آنا کہ ہو نہ ظاہر عیاں تھا جانا کہ سب ہوں باہر

وہ دل میں آئے امنگ ہو کر گئے تو چہرے کا رنگ ہو کر

غضب ہے انساں دم مصیبت کرے جو انساں سے بے وفائی

کہ دیکھو چکی کی پاٹ کیسے بہم ہیں گردش میں سنگ ہو کر

نہ کور باطن ہو اے برہمن ذرا تو چشم تمیز وا کر

خدا کا بندہ بتوں کو سجدہ خدا خدا کر خدا خدا کر

جو اٹھ کے پہلو سے انجمن میں وہ دور بیٹھے ہیں مجھ سے جا کر

تڑپ نے درد جگر کے دل کو پٹک دیا ہے اٹھا اٹھا کر

جو آنکھ کھولی تو کچھ نہ دیکھا سحر کو سنسان سب سرا تھی

ہوا نہ ہم راہیوں سے اتنا کہ ساتھ لیتے مجھے جگا کر

نہ بھول اس زندگی پہ غافل نہیں ہے کچھ اعتبار اس کا

کہ راہ لے گی یہ اپنی اک دن عدم کا رستہ تجھے بتا کر

اسی کا ہے رنگ یاسمن میں اسی کی بو باس نسترن میں

جو کھڑکے پتا بھی اس چمن میں خیال آواز آشنا کر

بلا ہے حرص و ہوائے دنیا کہ جس سے چکر میں سب ہیں انساں

کیا پریشاں ان آندھیوں نے تمام ذروں کو خاک اڑا کر

یہ کس کی تیغ جفا کا یا رب ہر ایک دل پر ہے رعب غالب

ہلال کی ہے خمیدہ گردن سپہر چلتا ہے سر جھکا کر

شبیہ مد نظر ہے کس کی کہ کوئی پوری نہیں اترتی

مٹا دیے صانع ازل نے ہزاروں نقشے بنا بنا کر

ہو بزم جاناں میں حشر برپا تڑپ کا دل کی یہ تھا تقاضا

مگر بڑی مشکلوں سے روکا ادب نے زانو دبا دبا کر

امیر مینائی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم