MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تیرا خیال ہے دل حیراں لیے ہوئے

تیرا خیال ہے دل حیراں لیے ہوئے
یا ذرہ آفتاب کا ساماں لیے ہوئے

دیکھا انہیں جو دیدۂ حیراں لیے ہوئے
دل رہ گیا جراحت پنہاں لیے ہوئے

میں پھر ہوں التفات گریزاں کا منتظر
اک بار التفات گریزاں لیے ہوئے

میں چھیڑنے لگا ہوں پھر اپنی نئی غزل
آ جاؤ پھر تبسم پنہاں لیے ہوئے

کیا بے بسی ہے یہ کہ ترے غم کے ساتھ ساتھ
میں اپنے دل میں ہوں غم دوراں لیے ہوئے

فرقت تری تو ایک بہانہ تھی ورنہ دوست
دل یوں بھی ہے مرا غم پنہاں لیے ہوئے

اب قلب مضطرب میں نہیں تاب درد ہجر
اب آ بھی جاؤ درد کا درماں لیے ہوئے

صرف ایک شرط دیدۂ بینا ہے اے کلیم
ذرے بھی ہیں تجلی پنہاں لیے ہوئے

میں نے غزل کہی ہے جگر کی زمین میں
دل ہے مرا ندامت پنہاں لیے ہوئے

آزاد ذوق دید نہ ہو خام تو یہاں
ہر آئینہ ہے جلوۂ جاناں لیے ہوئے

جگن ناتھ آزاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم