غزل
جیسے میں ہر اک شہر ہی سے شہر بدر تھا
اب یاد نہیں پڑتا کہ میرا کوئی گھر تھا
تھی ختم یہاں آ کے ہر اک راہ حقیقت
درپیش ہمیں پھر وہی خوابوں کا سفر تھا
خاموش تھا میں یوں بھی کہ سمجھے گا مجھے کون
پھر مجھ کو مری بات کی تردید کا ڈر تھا
یہ میں ہوں یہ ہے خاک مری دیکھنے والو
اور چند پلوں کا یہ مرا رقص شرر تھا
اب اور تو کچھ دعوے سے کہنا نہیں ممکن
اک شاعر بے ساختہ تھا عرشؔ اگر تھا
آکاش عرش
