MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خزاں جب تک چلی جاتی نہیں ہے

خزاں جب تک چلی جاتی نہیں ہے
چمن والوں کو نیند آتی نہیں ہے

جفا جب تک کہ چونکاتی نہیں ہے
محبت ہوش میں آتی نہیں ہے

جو روتا ہوں تو ہنستا ہے زمانہ
جو سوتا ہوں تو نیند آتی نہیں ہے

تمہاری یاد کو اللہ رکھے
جب آتی ہے تو پھر جاتی نہیں ہے

کلی بلبل سے شوخی کر رہی ہے
ذرا پھولوں سے شرماتی نہیں ہے

جہاں میکش بھی جائیں ڈرتے ڈرتے
وہاں واعظ کو شرم آتی نہیں ہے

نہیں ملتی تو ہنگامے ہیں کیا کیا
جو ملتی ہے تو پی جاتی نہیں ہے

جوانی کی کہانی داور حشر
سر محفل کہی جاتی نہیں ہے

کہاں تک شیخ کو سمجھائیے گا
بری عادت کبھی جاتی نہیں ہے

گھڑی بھر کو جو بہلائے مرا دل
کوئی ایسی گھڑی آتی نہیں ہے

ہنسی بسملؔ کی حالت پر کسی کو
کبھی آتی تھی اب آتی نہیں ہے

بسمل عظیم آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم