MOJ E SUKHAN

دل تباہ میں وہ آگیا تو کیا ہوگا

دل تباہ میں وہ آگیا تو کیا ہوگا
مرے خیالوں پہ وہ چھا گیا تو کیا ہوگا

بلا کا خوف ہے دونوں کو ٹوٹ جانے کا
وہ ھاتھ جوڑ کے شرما گیا تو کیا ہوگا

یہ بام و در تو محبت کی اک نشانی ہیں
چراغ عشق کو لہرا گیا تو کیا ہوگا

بکھر نہ جاؤں کہیں ڈر یہی لگا ہوا ہے
وہ میری شام کو مہکا گیا تو کیا ہوگا

یہ کہہ رہی ہے محبت سے آج چارہ گری
وہ بزم غیر میں شرما گیا تو کیا ہوگا

گزر گئ ہے شب وصل بھی یونہی ناہید
اور اب جو ہجر مجھے کھا گیا تو کیا ہوگا ۔

ناہید علی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم