دل کو رکھا جو حقائق کی نگہبانی پر
شکر میں نے کیا اپنی کسی نادانی پر
کل اچانک وہ مرا لوٹ کے آ نے والا
کتنا حیران ہوا ہے مری حیرانی پر
اب کوئی خواب ہے آنکھوں میں نہ جگنو نہ دیا
میں پریشان ہوں اس بے سر وسامانی پر
بخش کے مجھ کو مری جراتِ اظہار خیال
پھر وہ ناراض ہوا ہے مری من مانی پر
اس نے جب پیش کیا نقش خوش آیندہء سال
آنکھ ہونے لگی دریا مری مہمانی پر
یہ وہی شہر ہے جس شہر میں رقصاں تھی بہار
آنکھ حیران ہے اس شہر کی ویرانی پر
اپنے کچھ ایسے تھے. کہ رفتہ رفتہ
ہم پشیمان ہوئےاپنی پشیمانی پر
ریحانہ احسان