MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دیکھ کر جادۂ ہستی پہ سبک گام مجھے

دیکھ کر جادۂ ہستی پہ سبک گام مجھے
دور سے تکتی رہی گردش ایام مجھے

ڈال کر ایک نظر پیار کی میری جانب
دوست نے کر ہی لیا بندۂ بے دام مجھے

کل سنیں گے وہی مژدہ مری آزادی کا
آج جو دیکھ کے ہنستے ہیں تہہ دام مجھے

دیکھ لیتا ہوں اندھیرے میں اجالے کی کرن
ظلمت شب نے دیا صبح کا پیغام مجھے

نہ تو جینے ہی میں لذت ہے نہ مرنے کی امنگ
ان نگاہوں نے دیا کون سا پیغام مجھے

میں سمجھتا ہوں مجھے دولت کونین ملی
کون کہتا ہے کہ وہ کر گئے بدنام مجھے

گرچہ آغاز محبت نے دئے ہیں دھوکے
لیے جاتی ہے کہیں کاوش انجام مجھے

تیرا ہی ہو کے جو رہ جاؤں تو پھر کیا ہوگا
اے جنوں اور ہیں دنیا میں بہت کام مجھے

سید احتشام حسین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم