MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

زندگی اک زہر تھی اس زہر کو پینا پڑا

غزل

زندگی اک زہر تھی اس زہر کو پینا پڑا
مسکرا کر دوستوں کے درمیاں جینا پڑا

اس کو بھی مجھ سے شکایت تھی نہ تھا مجھ کو گلہ
جانے کیسے دو دلوں کے درمیاں کینہ پڑا

تھی عدالت میں گواہی ہاتھ تھے قرآن پر
جھوٹ کے کانٹوں سے لیکن سچ کا منہ سینا پڑا

فرش پر میں عرش پر وہ کیسے اس سے جا ملوں
راہ میں ہے طور سے بھی اونچا اک زینہ پڑا

بدنام نظر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم