MOJ E SUKHAN

سوز غم اہل محبت کو خدا بخشے ہے

غزل

سوز غم اہل محبت کو خدا بخشے ہے
یہ وہ مرہم ہے جو زخموں کو شفا بخشے ہے

زلف اپنی رخ روشن پہ سجی رہنے دو
میرے آئینۂ دل کو یہ جلا بخشے ہے

بزم ہستی میں جو آیا ہے وہ جائے گا ضرور
کون جیتا ہے سدا کس کو قضا بخشے ہے

اس کے قبضے میں تو غم اور خوشی دونوں ہیں
اب یہ ہے مصلحت یار وہ کیا بخشے ہے

دزندگی کی رہ پر خار میں تم ساتھ رہو
شمع آنکھوں کو اندھیرے میں ضیا بخشے ہے

جمع ہے بھیڑ خطا واروں کی اس کے در پر
دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس کی خطا بخشے ہے

کون دنیا میں پریشان نہیں ہے شاداںؔ
کس کو تپتے ہوئے صحرا کی ہوا بخشے ہے

شاداں بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم