MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سوچتا رہتا ہوں تکمیل وفا کیسے ہو

سوچتا رہتا ہوں تکمیل وفا کیسے ہو
آدمی بھی وہ نہیں ہے تو خدا کیسے ہو

عشق کو حوصلۂ ترک وفا کیسے ہو
لفظ معنی کی صداقت سے جدا کیسے ہو

میں تو پوچھوں گا کہ تم سب کے خدا کیسے ہو
میری آواز فرشتوں کی صدا کیسے ہو

ایک غم ہو تو بکھر جائے مرے چہرے پر
غیر محدود مصائب ہیں ضیا کیسے ہو

سوچنے والوں کی نیت کو خدا ہی جانے
بات والوں کو نہیں فکر وفا کیسے ہو

اس نے مجبور وفا جان کے منہ پھیر لیا
مجھ سے یہ بھول ہوئی پوچھ لیا کیسے ہو

اک سلگتا ہوا دل تم سے جلایا نہ گیا
جانے تم مخلص ارباب وفا کیسے ہو

کس کی صورت میں نہیں جلوۂ خون مزدور
خون مزدور کی قیمت بھی ادا کیسے ہو

عشق ناواقف آداب طلب ہے انجمؔ
حسن آمادۂ اظہار وفا کیسے ہو

انجم فوقی بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم