MOJ E SUKHAN

شہر میں سائباں بہت سے ہیں

شہر میں سائباں بہت سے ہیں
پھر بھی کیوں بے اماں بہت سے ہیں

ڈر گئے ایک امتحان سے تم
میری جاں! امتحاں بہت سے ہیں

لٹ گیا ایک کارواں تو کیا
راہ میں کارواں بہت سے ہیں

راز الفت کے ہم نہیں مجرم
آپ کے راز داں بہت سے ہیں

تیری ہی ہم نوا نہیں دنیا
میرے بھی ہم زباں بہت سے ہیں

اس زمین سخن میں اے جامیؔ
دیکھنا آسماں بہت سے ہیں

سید معراج جامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم