MOJ E SUKHAN

صحرا کو دریا سمجھا تھا

غزل

صحرا کو دریا سمجھا تھا
میں بھی تجھ کو کیا سمجھا تھا

ہاتھ چھڑا کر جانے والے
میں تجھ کو اپنا سمجھا تھا

پھر جاؤں گا اپنی زباں سے
کیا مجھ کو ایسا سمجھا تھا

اتنی آنکھ تو مجھ میں بھی تھی
دنیا کو دنیا سمجھا تھا

میں نے تجھ کو منزل جانا
تو مجھ کو رستہ سمجھا تھا

بے آئینہ شہر نے مجھ کو
خود سا بے چہرا سمجھا تھا

کیا سے کیا نکلا ہے، تو بھی
میں تجھ کو کیسا سمجھا تھا

خالد معین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم