MOJ E SUKHAN

طلسم عشق تھا سب اس کا سات ھونے تک

طلسم عشق تھا سب اس کا سات ھونے تک
خیال درد نہ آیا نجات ھونے تک

ملا تھا ہجر کے رستے میں صبح کی مانند
بچھڑ گیا تھا مسافر سے رات ھونے تک

عجیب رنگ بدلتی ھے اس کی نگری بھی
ھر ایک نہر کو دیکھا فرات ھونے تک

وہ اس کمال سے کھیلا تھا عشق کی بازی
میں اپنی فتح سمجھتا تھا مات ھونے تک

ھے اسعارہ غزل اس سے بات کرنے کا
یہی وسیلہ ھے اب اس سے بات ھونے تک

میں اس کو بھولنا چاھوں تو کیا کروں عادل
جو مجھ میں زندہ ھے خود میری ذات ھونے تک

تاجدار عادل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم