MOJ E SUKHAN

عشق شبنم نہیں شرارا ہے

غزل

عشق شبنم نہیں شرارا ہے
راز یہ مجھ پہ آشکارا ہے

اک کرم کی نگاہ کر دیجے
عمر بھر کا ستم گوارا ہے

رقص میں ہیں جو ساغر و مینا
کس کی نظروں کا یہ اشارا ہے

ایسی منزل پہ آ گیا ہوں دوست
ترے غم کا فقط سہارا ہے

لوٹ آئے ہیں یار کے در سے
وقت نے جب ہمیں پکارا ہے

دل نہ ٹوٹے تو ذرۂ ناچیز
کیمیا ہے جو پارا پارا ہے

جام رنگیں میں ان کا عکس جمال
یا شفق میں کوئی ستارا ہے

ناؤ ٹکرا چکی ہے طوفاں سے
اپنا مرشد ہی اب سہارا ہے

عشق کرنا ہے مات کھا جانا
اس میں جیتا ہوا بھی ہارا ہے

اپنے درشنؔ پہ اک نگاہ کرم
کہ غم زندگی کا مارا ہے

درشن سنگھ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم