MOJ E SUKHAN

عشق کا یہ دستور نہیں ہے

غزل

عشق کا یہ دستور نہیں ہے
کوئی بھی منصور نہیں ہے

ایک نظر اے برق تجلی
دل ہے ہمارا طور نہیں ہے

خون ہمارا چھپ نہ سکے گا
خون ہے یہ کافور نہیں ہے

راہی ہمت ہار نہ دیجو
منزل اب کچھ دور نہیں ہے

حسن نے ڈالیں لاکھ نقابیں
پر دل سے مستور نہیں ہے

آج مجھے اے حسن بتا دے
کیا تو بھی مجبور نہیں ہے

میکشؔ کب مجبور نہیں تھا
ساقی تو مجبور نہیں ہے

استااد عظمت حسین خاں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم