MOJ E SUKHAN

عشق کی آگ کو دامن سے ہوا دی جائے

عشق کی آگ کو دامن سے ہوا دی جائے
اپنے اشکوں سے یہی آگ بجھا دی جائے

دل کی دیوار کی تزئین اگر ہو مقصود
جی کو جو بھائے وہ تصویر لگا دی جائے

کسی سمجھوتےکی صورت ہو اگر نا ممکن
ان کی ہر بات کو ٹھوکر میں اڑا دی جائے

منصف۔وقت سے انصاف ملے یا نہ ملے
اب یہ لازم ہے کہ زنجیر ہلا دی جائے

وہ جو اک بات چھپائی ہے جو تم سے رضیہ
آج سوچا ہے زمانے کو سنا دی جائے

رضیہ سبحان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم