MOJ E SUKHAN

عکس گھٹتے بڑھتے ہیں شیشہ گری ہے ایک سی

عکس گھٹتے بڑھتے ہیں شیشہ گری ہے ایک سی
سوچ کے عدسے جدا ہیں روشنی ہے ایک سی

زندگی کرتے ہیں انساں مختلف انداز میں
گو کہ سب کی دسترس میں زندگی ہے ایک سی

دوستوں اور دشمنوں میں کس طرح تفریق ہو
دوستوں اور دشمنوں کی بے رخی ہے ایک سی

سوچ کا مفلوج ہونا سانحے سے کم نہیں
ان گنت شاعر ہیں لیکن شاعری ہے ایک سی

سب دلوں میں جا گزیں ہیں غم کے قصے ایک سے
سب جبینوں پر رقم بے رونقی ہے ایک سی

جانؔ یہ ثابت ہوا ہے تجربے کی آنچ پر
دشمنی ہے سو طرح کی دوستی ہے ایک سی

جان کاشمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم