MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

غم کی اندھیری راہوں میں تو تم بھی نہیں کام آؤ ہو

غزل

غم کی اندھیری راہوں میں تو تم بھی نہیں کام آؤ ہو
کیوں بے کار کرو ہو حجت آگے بات بڑھاؤ ہو

کیوں تھم تھم کر قدم رکھو ہو کیوں اتنا گھبراؤ ہو
رات کا سناٹا ہے میں ہوں تم کس سے شرماؤ ہو

آؤ اپنے ہاتھ میں لے کر ہاتھ ہمارا دیکھو تو
ہم نے سنا ہے تم سب کی قسمت کا حال بتاؤ ہو

پہلے پہر جب آ نہ سکے تم آخر شب کی فکر ہی کیا
اب تو دل ہی سلگ اٹھا ہے اب کیوں دیا جلاؤ ہو

اک دستور سہی دنیا کا زخموں پر لفظوں کا ڈھیر
اے لوگو کچھ سمجھو بھی ہو جو مجھ کو سمجھاؤ ہو

شام نہیں ڈھلتی کسی صورت رات نہیں کٹتی کسی طور
اب تو بہت دل گھبرائے ہے اب تو بہت یاد آؤ ہو

ہیں احباب بھی اک سرمایہ لیکن یہ بھی یاد رہے
اتنی ہی آنچ لگے گی شوکتؔ جتنا تیز الاؤ ہو

شوکت پردیسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم