MOJ E SUKHAN

نارسائی ہے کہ تو ہے کیا ہے

نارسائی ہے کہ تو ہے کیا ہے
یاد کرکے جسے جی ڈوبا ہے

اے غمِ جاں ترے غم خواروں کا
صبر اب حد سے سوا پہنچا ہے

آئینہ تھا کہ مرا پیکر تھا
تیری باتوں سے ابھی بکھرا ہے

آنکھ کس لفظ پہ بھر آئی ہے
کون سی بات پہ دل ٹوٹا ہے

میرے ہاتھوں کی لکیروں میں کوئی
زندگی بن کے چھپا بیٹھا ہے

مردہ دل ہم بھی نہ تھے پر اب کے
حادثہ ہم پہ عجب گزرا ہے

اب سے پہلے کئی صدیاں پہلے
جیسے خود کو بھی کہیں دیکھا ہے

آسماں جھانک رہا ہے خالدؔ
چاند کمرے میں مرے اُترا ہے

خالد شریف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم