MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وحشتوں میں عشق کی وہ شانہ فرمائیں گے کیا

غزل

وحشتوں میں عشق کی وہ شانہ فرمائیں گے کیا
زندگی الجھی ہوئی ہے بال سلجھائیں گے کیا

خود ہی تم سوچو جو دنیا میں اسیر ذات ہیں
وہ دکھوں کی بھیڑ میں آرام پہنچائیں گے کیا

دور استبداد میں اے دل فغاں بے سود ہے
گرمیٔ فریاد سے پتھر پگھل جائیں گے کیا

سونے چاندنی کی یہ نہریں یہ فلک پیما محل
بعد مرنے کے ترے محشر میں کام آئیں گے کیا

ہم نے صدیوں کا چمن چھوڑا وفا کی آس پر
اب تمہارے دیس میں بھی ٹھوکریں کھائیں گے کیا

طاقت ضبط و تحمل کب کی رخصت ہو چکی
ناتوان عشق کو وہ اور تڑپائیں گے کیا

اے شعاع مہر تاباں جلوہ ریزی سے تری
سنگریزے راہ کے الماس بن جائیں گے کیا

جو مسلسل عصر نو سے برسر پیکار ہیں
وہ بھی تھک کر وقت کے سانچے میں ڈھل جائیں گے کیا

جلی امرہوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم