MOJ E SUKHAN

وقت کیا شے ہے پتہ آپ ہی چل جائے گا

وقت کیا شے ہے پتہ آپ ہی چل جائے گا
ہاتھ پھولوں پہ بھی رکھو گے تو جل جائے گا

جس کو محفل سے نکالو گے نکل جائے گا
مگر ادبار تو ادبار ہے ٹل جائے گا

کہیں فطرت کے تقاضے بھی بدل سکتے ہیں
گھاس پر شیر جو پالو گے تو پل جائے گا

کہہ دیا تھا کہ یہ رہبر جو چنا ہے تم نے
صاف طوطے کی طرح آنکھ بدل جائے گا

وہ بدلتے ہوئے ماحول کا سانچہ ہی سہی
کوئی سکہ تو نہیں ذہن کہ ڈھل جائے گا

صبح مایوس گلستاں کی قسم پھر کہئے
باغبانوں کے دماغوں سے خلل جائے گا

میکدے آ کے وہ انسان بنیں یا نہ بنیں
حضرت شیخ کا ایمان سنبھل جائے گا

ستم و ظلم کی ٹہنی بھی نہیں پھل سکتی
آپ نے باغ لگایا ہے تو پھل جائے گا

فرض ہیں ہم پہ بیانات بصیرت اے شادؔ
جس کی قسمت میں سنبھلنا ہے سنبھل جائے گا

شاد عارفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم