MOJ E SUKHAN

وہ لڑکی کسی اور بستی کی

وہ لڑکی کسی اور بستی کی
رہنے والی تھی جو پتھر پہ
پھول اگانے کی خواہش میں
انگلیاں زخمی کر بیٹھی
سنا ہے اس کی بستی میں
پھول اور محبت جیون کا لازمی حصہ تھے
وہاں لفظوں میں پھول کھلتے تھے
اور آنکھوں سے محبت کی کرنیں
پھوٹتی تھیں
جو کوئی اس بستی میں آتا
چند اچھے لفظوں کے بدلے
ڈھیروں محبت لے جاتا
ایک دن اس بستی میں اک جادو گر آیا
اور اس نے ایسا منتر پھونکا کہ ساری بستی پتھر ہو گئی
لڑکی جو کہیں باہر گئی تھی واپس آئی تو
اس کی دنیا بدل چکی تھی
اس دن سے وہ لڑکی
جہاں کہیں بھی پتھر دیکھتی ہے
انہیں پھول بنانے کی کوشش میں
زخمی ہو جاتی ہے

فاطمہ حسن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم