MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

پٹریوں کی چمکتی ہوئی دھار پر فاصلے اپنی گردن کٹاتے رہے

پٹریوں کی چمکتی ہوئی دھار پر فاصلے اپنی گردن کٹاتے رہے
دوریاں منزلوں کی سمٹتی رہیں لمحہ لمحہ وہ نزدیک آتے رہے

زندہ مچھلی کی شاید تڑپ تھی انہیں سارے بگلے سمندر کی جانب اڑے
ریت کے زرد کاغذ پہ کچھ سوچ کر نام لکھ لکھ کے تیرا مٹاتے رہے

نرم چاہت کی پھیلی ہوئی گھاس کو وقت کے سخت پتھر نہ روندیں کہیں
بس یہی خوف اپنی نگاہوں میں تھا مسکرانے کو ہم مسکراتے رہے

چلچلاتی ہوئی دھوپ کی آنچ میں یوں جھلسنا تو اپنا مقدر رہا
ذہن میں نرم و نازک گھنی چھاؤں سے تیرے آنچل مگر سرسراتے رہے

یاس کی خشک ٹہنی پہ کیسے لگا بور خوابوں کا مجھ سے نہ کچھ پوچھنا
زندگی لمحہ لمحہ مجھے مل گئی قطرہ قطرہ وہ چاہت لٹاتے رہے

یوسف تقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم