MOJ E SUKHAN

پھر سے آرائش ہستی کے جو ساماں ہوں گے

پھر سے آرائش ہستی کے جو ساماں ہوں گے
تیرے جلووں ہی سے آباد شبستاں ہوں گے

عشق کی منزل اول پہ ٹھہرنے والو
اس سے آگے بھی کئی دشت و بیاباں ہوں گے

تو جہاں جائے گی غارت گر ہستی بن کر
ہم بھی اب ساتھ ترے گردش دوراں ہوں گے

کس قدر سخت ہے یہ ترک و طلب کی منزل
اب کبھی ان سے ملے بھی تو پشیماں ہوں گے

تیرے جلووں سے جو محروم رہے ہیں اب تک
وہی آخر ترے جلووں کے نگہباں ہوں گے

اب تو مجبور ہیں پر حشر کا دن آنے دے
تجھ سے انصاف طلب روئے گریزاں ہوں گے

جب کبھی ہم نے کیا عشق پشیمان ہوئے
زندگی ہے تو ابھی اور پشیماں ہوں گے

کوئی بھی غم ہو غم دل کہ غم دہر حفیظؔ
ہم بہ ہر حال بہ ہر رنگ غزل خواں ہوں گے

حفیظ ہوشیار پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم