MOJ E SUKHAN

پیاس دریا کی نگاہوں سے چھپا رکھی ہے

غزل

پیاس دریا کی نگاہوں سے چھپا رکھی ہے
ایک بادل سے بڑی آس لگا رکھی ہے

تیری آنکھوں کی کشش کیسے تجھے سمجھاؤں
ان چراغوں نے مری نیند اڑا رکھی ہے

کیوں نہ آ جائے مہکنے کا ہنر لفظوں کو
تیری چٹھی جو کتابوں میں چھپا رکھی ہے

تیری باتوں کو چھپانا نہیں آتا مجھ سے
تو نے خوشبو مرے لہجے میں بسا رکھی ہے

خود کو تنہا نہ سمجھ لینا نئے دیوانوں
خاک صحراؤں کی ہم نے بھی اڑا رکھی ہے

اقبال اشہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم