MOJ E SUKHAN
No Record Found
پاگل پن کی باتیں ہیںچندا ہے دو چار دنوں کاآگے اندھی راتیں ہیں
عظمی جون
اشکوں سے داغ دل کے نہ دھویا کریں گے ہم
چمکتے اشکوں کی تسبیح لے کے ہاتھوں میں
اک بہاؤ کی کہانی ہے میاں
انہی کے نقشِ پا کے یہ نشاں ہیں
ہر چند زندگی کا سفر مشکلوں میں ہے
ایامِ جوانی میں غمِ یار مجھے دے
تم اور فریب کھاؤ بیانِ رقیب سے
یہ چاندنی گر یقین بن کر
کبھی وہ آنکھ کبھی فیصلہ بدلتا ھے
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے