MOJ E SUKHAN

چھوڑ زنجیر کو دہائی دے

غزل

چھوڑ زنجیر کو دہائی دے
تاکہ لوگوں کو بھی سنائی دے

کب کہا تھا مجھے خدائی دے
میرے اندر سے تو دکھائی دے

کھینچ سینے سے تیر دھڑکن کا
کھینچ لے اور مجھے رہائی دے

تیری جانب سراغ جائے گا
جان من اتنی مت صفائی دے

میں تری آنکھ میں اتر پاؤں
اس قدر مجھ کو بھی رسائی دے

جی اے نجم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم