MOJ E SUKHAN

چہار سمت کہیں دائیں بائیں لگتی ہیں

غزل

چہار سمت کہیں دائیں بائیں لگتی ہیں
سکوت توڑنا ہو تو صدائیں لگتی ہیں

بزرگ ایسے بھلائی کے پیڑ ہیں جن پر
اگر ثمر نہ لگے تو دعائیں لگتی ہیں

کہ ان کے ہونے سے گھر بھی چہکنے لگتا ہے
مجھے تو بیٹیاں بھی فاختائیں لگتی ہیں

بتایا جائے اگر دل کا درد روکنا ہو
تو ایک ماہ میں کتنی دوائیں لگتی ہیں

ہوں اک پہاڑ کی چوٹی پہ آج کل آباد
میں گھر سے نکلوں تو دل سے گھٹائیں لگتی ہیں

میں اس لیے بھی جلاتا ہوں اپنا دل اعجازؔ
کہ اس دیے کو ذرا کم ہوائیں لگتی ہیں

اعجاز توکل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم