MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کیا سنے کوئی زبانی میری

غزل

کیا سنے کوئی زبانی میری
اور پھر وہ بھی کہانی میری

شہر صحرا کی طرح لگتا ہے
رائیگاں نقل مکانی میری

ایک چہرہ مرے چہرے سے الگ
ایک تصویر پرانی میری

میں کہ دریا تھا جو اب ساکت ہوں
کھو گئی مجھ میں روانی میری

رات شبنم میں بہت بھیگا تھا
دیکھ اب شعلہ فشانی میری

عبید صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم