کیا کسی سے کوئی کہے آخر
اپنے اپنے نہ جب ہوئے آخر
میں شجر کی طرح ہوں ایستادہ
تم پرندے تھے اڑ گئے آخر
وقت نے کر دیا ہے سچ ثابت
غیر پھر تم بھی ہو گئے آخر
سارے صدمے تمھارے حصے کے
میں نے ہی جان پر سہے آخر
کب تلک روکتی ان آنکھوں میں
اشک ہی تھے ، چھلک پڑے آخر
روکتی میں زبان کس کس کی
لفظ دل میں بہت چبھے آخر
اور بھی تھے اسیر زنداں میں
پر ہمارے ہی کیوں کٹے آخر
باغباں کو کھٹک رہے تھے جو
آشیانے وہی جلے آخر
عشق کا انتخاب اور زریاب ؟
تم نے قصے نہیں سنے آخر
ہاجرہ نور زریاب