MOJ E SUKHAN

ہجوم میں بھی میں رہی اکیلی پر

غزل

ہجوم میں بھی میں رہی اکیلی پر
تجھے میں ڈھونڈتی رہی نگر نگر

حیات کی یہ رہگزر ہے رہگزر
گزر گئی ہماری شب ہوئی سحر

پھر انجمن میں لگ سکا نہ میرا دل
کی اِختیار میں نے پھر الگ ڈگر

تلاش میں تری کہاں کہاں گئی
عجب طرح خیال نے کیا سفر

ستارہ وار روشنی میں ڈوبی پھر
ملی زمیں کی جب فلک سے یوں نظر

تمام عمر کی ہے دل سے یہ دُعا
تمہی رہو گے ہر سفر میں ہم سفر

مسلسل ان دُکھوں کو جھیلتی رہی
شجر میں پھر بھی کم لگے ثمرؔ مگر

ثمرین ندیم ثمر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم