MOJ E SUKHAN

ہر غم پہ آج کل ہے خوشی کا گماں مجھے

غزل

ہر غم پہ آج کل ہے خوشی کا گماں مجھے
لے آئی یاد یار کہاں سے کہاں مجھے

منظور ذوق دید کا ہو امتحاں مجھے
یہ تاب یہ مجال یہ طاقت کہاں مجھے

یا رب قفس کی خیر کہ دیکھا جو خواب بھی
آیا ہے بجلیوں میں نظر آشیاں مجھے

آزادئ خیال کے وہ رنگ اب کہاں
تھا ابتدا میں کنج قفس آشیاں مجھے

ذوق طلب کا راز یہی زندگی یہی
ہر کارواں ہے گرد پس کارواں مجھے

میں جان رنگ و بو ہوں میں آرائش چمن
تو کیا سمجھ رہا ہے مرے باغباں مجھے

تیور نگاہ ناز کے کچھ دن یہی جو ہیں
یارائے ضبط راز جمالیؔ کہاں مجھے

بدر جمالی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم