MOJ E SUKHAN

ہر پل جو کاٹتی ہے مجھے دھار ہی تو ہے

غزل

ہر پل جو کاٹتی ہے مجھے دھار ہی تو ہے
اکرامؔ اپنی سانس بھی تلوار ہی تو ہے

اونچی عمارتوں کے نگر میں مرے لئے
جائے پناہ سایۂ دیوار ہی تو ہے

ہٹتی ہے سامنے سے مرے کب یہ دیکھیے
اپنی انا بھی راہ کی دیوار ہی تو ہے

ردی کے بھاؤ بیچنے نکلے ہوئے ہیں لوگ
یہ زندگی پڑھا ہوا اخبار ہی تو ہے

صبا اکرام

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم