MOJ E SUKHAN

ہے غنیمت یہ فریب شب وعدہ اے دل

ہے غنیمت یہ فریب شب وعدہ اے دل
کیا کوئی دے گا تجھے اس سے زیادہ اے دل

مدتوں جان چھڑکتے رہے جس لمس پہ وہ
اوڑھ کر آ گیا خوشبو کا لبادہ اے دل

سوچ زنجیر بہ پا فکر ہے پابند رسن
کیا یہی صبح تمنا کا ہے جادہ اے دل

اب بھی روشن کئے بیٹھا ہے امیدوں کے چراغ
کتنا معصوم ہے تو کتنا ہے سادہ اے دل

خوں میں لتھڑے ہوئے لاشے ہیں نقوش کف پا
اور کر منزل جاناں کا ارادہ اے دل

خود فریبی کا فسوں تجھ پہ ہے کاری ورنہ
کم نہیں ہے شب غم سے شب وعدہ اے دل

رضا ہمدانی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم