MOJ E SUKHAN

ہے وہی ایک میرے سوا اور میں

ہے وہی ایک میرے سوا اور میں
دونوں تنہا ہیں میرا خدا اور میں

ہے خلاصہ مری زندگی کا یہی
ایک ناکام حرف دعا اور میں

تیرگی ختم کرنے کی امید پر
رات بھر ہی جلا اک دیا اور میں

کون جیتے گا اس جنگ میں دیکھیے
ہو گئے ہیں مقابل ہوا اور میں

آئی برکھا کی رت میرے دکھ بانٹنے
روئے پھر ساتھ مل کر گھٹا اور میں

اک طرف وہ ہے اور اس کے سارے ستم
اک طرف صبر کی انتہا اور میں

کیوں سزا پھر ملے گی کسی اور کو
ہیں گنہ گار میری انا اور میں

تشنگی کی علامات کے طور پر
دو ہی نام آئیں گے کربلا اور میں

فرحت ندیم ہمایوں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم