MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ حادثہ تو ہوا ہی نہیں ہے تیرے بعد

غزل

یہ حادثہ تو ہوا ہی نہیں ہے تیرے بعد
غزل کسی کو کہا ہی نہیں ہے تیرے بعد

ہے پر سکون سمندر کچھ اس طرح دل کا
کہ جیسے چاند کھلا ہی نہیں ہے تیرے بعد

مہکتی رات سے دل سے قلم سے کاغذ سے
کسی سے ربط رکھا ہی نہیں ہے تیرے بعد

خیال خواب فسانے کہانیاں تھیں مگر
وہ خط تجھے بھی لکھا ہی نہیں ہے تیرے بعد

کہاں سے مہکے گی ہونٹوں پہ لمس کی خوشبو
کسی کو میں نے چھوا ہی نہیں ہے تیرے بعد

چراغ پلکوں پہ آذرؔ کسی کی یادوں کا
قسم خدا کی جلا ہی نہیں ہے تیرے بعد

کفیل آزر امروہوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم