MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ دنیا ہے یہاں اصلی کہانی پشت پر رکھنا

غزل

یہ دنیا ہے یہاں اصلی کہانی پشت پر رکھنا
لبوں پر پیاس رکھنا اور پانی پشت پر رکھنا

تمناؤں کے اندھے شہر میں جب مانگنے نکلو
تو چادر صبر کی صدیوں پرانی پشت پر رکھنا

میں اک مزدور ہوں روٹی کی خاطر بوجھ اٹھاتا ہوں
مری قسمت ہے بار حکمرانی پشت پر رکھنا

تجھے بھی اس کہانی میں کہیں کھونا ہے شہزادے
خدا حافظ یہ مہر خاندانی پشت پر رکھنا

ہمیشہ وقت کا دریا اسے رفتار بخشے گا
جسے آتا ہو دریا کی روانی پشت پر رکھنا

احتشام الحق صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم