MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

آرزو حسرت تمنا مدعا کوئی نہیں

آرزو حسرت تمنا مدعا کوئی نہیں
جب سے تم ہو میرے دل میں دوسرا کوئی نہیں

ہے وفائی کا مجھے تم سے گلہ کوئی نہیں
پیار تو میں نے کیا تیری خطا کوئی نہیں

چاہنے والا ہوں تیرا جب کبھی میں نے کہا
کہہ دیا اس بے وفا نے تو میرا کوئی نہیں

میں نے جس سے دل لگایا وہ نہ میرا ہو سکا
اس سے بڑھ کر دل لگانے کی سزا کوئی نہیں

خوب ہے وہ زندگی جو ساتھ گزرے یار کے
یار بن الفت میں جینے کا مزہ کوئی نہیں

روح کی تسکین کا چارہ نہیں ہے موت بھی
درد ایسا ہے میرا جس کی دوا کوئی نہیں

اجنبی ہوں میں شناساؤں میں بھی رہتے ہوئے
جانتا کوئی نہیں پہچانتا کوئی نہیں

کام کچھ تیرے بھی ہوتے تیری مرضی کے خلاف
ہاں مگر میرے خدا تیرا خدا کوئی نہیں

بڑھ کے طوفاں میں سہارا موج طوفاں کیوں نہ دے
میری کشتی کا خدا ہے نا خدا کوئی نہیں

جستجو کامل ہے تو منزل کا ملنا شرط ہے
جستجو سے بڑھ کے پرنمؔ رہنما کوئی نہیں

پرنم الہ آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم