MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

چاہت کے پیغام کہاں سے آتے ہیں

چاہت کے پیغام کہاں سے آتے ہیں
خط یہ میرے نام کہاں سے آتے ہیں

مانا تیرا دوش نہیں تھا الفت میں
لیکن پھر دشنام کہاں سے آتے ہیں

چاہت میں ہر گام مسرت ملتی ہے
پھر یہ دکھ آلام کہاں سے آتے ہیں

غیروں کے الزام چنے ہیں گن گن کر
باقی کے الزام کہاں سے آتے ہیں

جن کا کوئی کام رکا نہ رہتا تھا
سوچو وہ ناکام کہاں سے آتے ہیں

ان کو میری یاد سنا ہے آتی ہے
کعبے میں اصنام کہاں سے آتے ہیں

دیکھو عظمی جون خبر سب رکھتا ہے
اس کو یہ الہام کہاں سے آتے ہیں

عظمی جون

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم