MOJ E SUKHAN

اچھا تھا اپنا حال ابھی کل کی بات ہے

اچھا تھا اپنا حال ابھی کل کی بات ہے
ہرشخص تھا مثال ابھی کل کی بات ہے

خودداریوں کی چھاؤں میں ہوتی تھی زندگی
لب پہ نہ تھا سوال ابھی کل کی بات ہے

عیدوں پہ دو دوچاندنکلتےنہ تھے کبھی
بس ایک تھا ہلال ابھی کل کی بات ہے

ڈاکو کرپٹ چورنہ ہوتےتھے اس قدر
ایسے تھے خال خال ابھی کل کی بات ہے

دس بیس قتل روزکامعمول بن گئے
ایسا نہ تھا قتال ابھی کل کی بات ہے

کیا دورتھاکہ ہرکوئی رکھتاتھا رو بہ رو
پیش نظر مآل ابھی کل کی بات ہے

بوڑھے کھڑے ہیں نوجوان بیٹھے ہیں سیٹ پر
ایسا نہیں تھا حال ابھی کل کی بات ہے

بھائی کی کاٹ میں ہےلگابھای ان دنوں
ایسا نہ تھا وبال ابھی کل کی بات ہے

دوہی گلاب شاخ پہ عاصی نہ تھے کبھی
کب تھا گلوں کا کال ابھی کل کی بات ہے

مرزا عاصی اختر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم