MOJ E SUKHAN

بحث یوں تو تمام رات ہوئی

بحث یوں تو تمام رات ہوئی
کام کی ایک بھی نہ بات ہوئی

شکریہ آئینہ دکھانے کا
خود فریبی سے تو نجات ہوئی

کیا کہوں کار زارِ الفت میں
جیت حاصل ہوئی کہ مات ہوئی

یاد اُن کی نہ آئی ہو جس میں
ایسا دن ہی ہوا نہ رات ہوئی

کیا بتاؤں کسی کو اے مختار
کس طرح رائیگاں حیات ہوئی

مختار تلہری ثقلینی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم