MOJ E SUKHAN

بساط وقت پہ وہ چال چل رہا ہوں میں

غزل

بساط وقت پہ وہ چال چل رہا ہوں میں
کہ اپنی عمر سے آگے نکل رہا ہوں میں

گمان تک نہیں اس کو مرے تغیر کا
کچھ اس سلیقے سے خود کو بدل رہا ہوں میں

نشے کی موج میں یہ بھی نہ ہو سکا معلوم
کہ یہ تو آگ کی لپٹیں مسل رہا ہوں میں

خود اپنی دید کی خواہش ہے مجھ کو مدت سے
خود اپنے ہجر کی حدت میں جل رہا ہوں میں

یہی تو ہے مرے ادراک کی سزا محسنؔ
صراط بے خبری پر جو چل رہا ہوں میں

محسن چنگیزی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم